ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظور؛ بڑی پارٹیوں کے والک آوٹ سے مودی کو ملی تاریخی کامیابی

طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظور؛ بڑی پارٹیوں کے والک آوٹ سے مودی کو ملی تاریخی کامیابی

Tue, 30 Jul 2019 21:24:18    S.O. News Service

نئی دہلی 30/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسیز) لوک سبھا کے مانسون سیشن میں جمعرات کو طلاق ثلاثہ بل منظور ہونے کے بعد اس بار منگل کو راجیہ سبھا میں بھی  تین طلاق بل منظور ہوگیا۔ بل پر بحث کے لئے آج چار گھنٹے طئے کئے گئے تھے، بل کو لے کر بی جے پی نے اپنے   اراکین پارلیمنٹ کو وہپ جاری کیا تھا، راجیہ سبھا میں بل کو پاس کرانے کے لئے مودی سرکار کی راہ اُس وقت آسان ہوتی نظر آئی جب جے ڈی یو اور AIADMK کے ارکان پارلیمان نے ایوان بالا سے والک آوٹ کیا۔اس کے ساتھ ہی 14 اراکین پارلیمان آج سیشن سے غیر حاضر بھی رہے جبکہ  ٹی آر ایس نے ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔

مودی حکومت نے پچھلے سیشن  میں بھی کافی  کوشش کی تھی کہ وہ تین طلاق بل کو منظور کرے ، لیکن  اقلیت میں ہونے کی وجہ سے اُسے  مایوسی ہوئی تھی مگر  اس بار حکومت نے مخالفین کو اس انداز میں  لیا کہ بڑی پارٹیوں کے والک آوٹ کرنے سے اُسے یہ بل منظور کرنے میں آسانی ہوگئی۔ 

یاد رہے کہ این ڈی اے کی حمایت کرنے والی جے ڈی یو نے تین طلاق بل کی مخالفت کی تھی اور اس کے راجیہ سبھا میں 6 اراکین ہیں جبکہ AIADMK کے  راجیہ سبھا میں 11 اراکین ہیں،   ٹی آر ایس کے 6، بی ایس پی کے 4 اور ٹی ڈی پی کے 2 ارکان بھی ہیں اور ان  سبھی ارکان کے ووٹنگ کے وقت  راجیہ سبھا میں موجود نہ رہنے کی وجہ سے مودی سرکار کو یہ بل پاس کرانے میں آسانی ہوگئی، تعجب کی بات یہ رہی کہ  ایس پی کے بھی کچھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔  آج  بل کی پیشی کے دوران  بی جے پی کو اس بات کا بھی فائد ملا کہ  راجیہ سبھا   میں کم سے کم 14 اراکین پارلیمان غیر  حاضر رہے جن میں بی جے پی کے آرون جیٹلی، کانگریس کے عاسکر فرنانڈیز اور این سی پی کے شرد پوار اور پرفل پٹیل بھی شامل ہیں۔ اس سے راجیہ سبھا کی  تعداد گھٹ کر 216 ہوگئی۔

242 ارکان والی راجیہ سبھا میں بی جے پی کے 78 اور کانگریس کے 48 ارکان ہیں۔ بل کو پاس کرانے کے لئے این ڈی اے کو 121 اراکین کی حمایت چاہئے تھی، لیکن بڑی تعداد میں  ارکان کی  غیر حاضری کی وجہ سے ایوان میں بی جے پی  کی  پوزیشن مضبوط ہوگئی۔  اور سرکار کو تین طلاق بل پاس کرانے کے لئے صرف 109 کا نشانہ چھونے کی ضرورت پڑ گئی، ایسے میں  بیجو جنتادل نے تین طلاق بل کی حمایت کرنے کا اعلان کیا، جس سے اس بل پر این ڈی اے کی  طاقت بڑھ کر 113  ہوگئی، آخر میں جب ووٹنگ شروع ہوئی تو  حکومت اور حز ب مخالف دونوں پارٹیوں کے ممبران کی طرف سے کم  ووٹنگ ہوئی۔  اور آخر میں  بل کی   حمایت میں 99 اور مخالفت میں 84 ووٹ پڑنے کی وجہ سے   راجیہ سبھا میں یہ بل آسانی کے ساتھ پاس ہوگیا۔

 اس سے پہلے اپوزیشن نے طلاق ثلاثہ  بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس  بھیجنے کی تجویزی دی تھی لیکن یہ تجویز  100/84 سےخارج ہوگئی تھی جس کے بعد بل کے لئے  ووٹنگ ہوئی تھی۔

اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی اب بیوی کو ایک ہی نششت میں تین مرتبہ طلاق کہہ کر نجات پا لینے والے شوہروں کو جیل بھیجنے کا راستہ  صاف ہو گیا ہے۔اب اس بل کو منظوری کے لئے صدر کے پاس بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ بل قانون کا روپ اختیار کر ے گا۔ خیال رہے کہ  اس بل میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے، شوہر کو 3 سال کی جیل کی سزا اور جرمانہ  کا التزام بھی شامل ہے۔

اس بل کو راجیہ سبھا میں منظوری ملنے کے ساتھ ہی  مودی حکومت کو  ایک بارپھر بڑی کامیابی حاصل ہوئی  ہے۔ کیونکہ بی جے پی اپوزیشن جماعتوں اورمسلم رہنماوں کی مخالفت کے باوجود اس بل کو پاس کرانے کے لئے بضد تھی۔ اس سے قبل یہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہوسکا تھا، لیکن آج مودی حکومت یہ بل منظورکرانے میں کامیاب ہوگئی۔

 واضح رہے کہ اس بل کی  مسلم طبقہ اور علماء روز اول سے ہی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق خواہ ایک برا عمل ہے اور اسے طلاق  بدعت کہتے ہیں لیکن مسلم طبقہ کے لئے اگر حکومت کوئی بل لے کر آتی ہے تو اس طبقہ سے صلاح مشورہ کیا جانا چاہئے تھا۔ نیز یہ کہ اس طرح جبراً کسی طبقہ   کے لئے قانون بنا دینا سراسر ناانصافی ہے اور شریعت میں مداخلت کے مترادف ہے۔


Share: